جدوجہد

Submitted by Jasim Khawaja on Thu, 07/05/2012 - 14:41

جدوجہد..... حقیقت تب کھلی تھی جب آنکھ اس کی کھلی۔ اس کے آس پاس شجر تھا سایہ تھا اور وہی آفتاب جو درختوں کی اوڑھ میں اسے تاک رہا تھا۔ ہوا کی ٹھنڈی گرم ملی جلی کیفیت اس کے چہرے پر چھو رہی تھی۔ اور وہ کہیں کھو گیا جیسے ابھی جاگا ہی نہیں تھا ۔ ایک کبوتر اس کی چارپائی کے نیچے دانہ تلاش کرنے کی غرض سے مٹر گشت کرنے لگا۔ اس کی غٹر غوں کی آواز سن کر وہ چونکا۔ پاس سے اس کا گلا خشک ہو رہا تھا۔ اس نے پانی پینے کا ارادہ کیا۔چارپائی کے نیچے کبوتر گھوم رہا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ انی پینے کا ارادہ ترک کر گیا کہ کہیں اس کے چارپائی سے نیچے اترتے وقت کبوتر کہیں ڈر کر اڑ نا جائے۔ وہ اسے غور سے دیکھنے لگا کبوتر کی ایک آنکھ دانے تلاش میں لگی ہوئی تھی اور دوسری اس پر براجمان تھی۔ جبکہ چونچ مسلسل دانہ چگ رہی تھی۔ وہ حیران تھا کہ زمین پر ایسا کوئی اناج وغیرہ کی کوئی نشانی نظر نہ آرہی تھی۔ لیکن کبوتر مسلسل دانہ چونچ سے چگ رہا تھا۔ کبھی اسے دانہ نظر آجاتا جسے وہ چگ لیتا اور کبھی خالی ہی چونچ زمین پر مارتا جا رہا تھا۔ جاسم خواجہ