Parayee Peerh Ko Saiaban Nahi Kartay-Riaz Shahid
پرائے پیڑ کو ہم سائباں نہیں کرتے
ملے بہار تو اس کو خزاں نہیں کرتے
کھلی کتاب کے جیسی ہے زندگی اپنی
کوئی بھی زاویہ اپنا نہاں نہیں کرتے
تری کہانی میں ہے کذب کی ادا ورنہ
جو سچی بات ہو اس پر گماں نہیں کرتے
چھپاتے لوگ ہیں کینہ زبان میٹھی میں
کسی کے سامنے دُکھ یوں بیاں نہیں کرتے
جہاں میں عشرت و آسائشوں کے بدلے میں
فقیر کانٹوں کی ہر گز دکاں نہیں کرتے
بہت ضروری ہے کردار اور سیرت پر
کسی کی ذات کو لیکن نشاں نہیں کرتے
یہ زندگی تو ہے مہمان چند گھڑیوں کی
ملے جو لمحۂ فرقت زیاں نہیں کرتے
سنا کے درد بھری داستان لوگوں کو
ہم اپنے زخموں کو ہر گز عیاں نہیں کرتے
غرورِ ذات میں ڈوبے ہوئوں کی بات نہ کر
وہ اپنے ظرف کا چرچا کہاں نہیں کرتے
تپش ہو عشق کی دل میں جو مثلِ پروانہ
تو نارِ زیست سے پھر الاماں نہیں کرتے









