Parayee Peerh Ko Saiaban Nahi Kartay-Riaz Shahid

Submitted by Riaz Shahid on Tue, 04/05/2011 - 12:22

 پرائے پیڑ کو ہم سائباں نہیں کرتے

ملے بہار تو اس کو خزاں نہیں کرتے

کھلی کتاب کے جیسی ہے زندگی اپنی

کوئی بھی زاویہ اپنا نہاں نہیں کرتے

تری کہانی میں ہے کذب کی ادا ورنہ

جو سچی بات ہو اس پر گماں نہیں کرتے

چھپاتے لوگ ہیں کینہ زبان میٹھی میں

کسی کے سامنے دُکھ یوں بیاں نہیں کرتے

جہاں میں عشرت و آسائشوں کے بدلے میں

فقیر کانٹوں کی ہر گز دکاں نہیں کرتے

بہت ضروری ہے کردار اور سیرت پر

کسی کی ذات کو لیکن نشاں نہیں کرتے

یہ زندگی تو ہے مہمان چند گھڑیوں کی

ملے جو لمحۂ فرقت زیاں نہیں کرتے

سنا کے درد بھری داستان لوگوں کو

ہم اپنے زخموں کو ہر گز عیاں نہیں کرتے

غرورِ ذات میں ڈوبے ہوئوں کی بات نہ کر

وہ اپنے ظرف کا چرچا کہاں نہیں کرتے

تپش ہو عشق کی دل میں جو مثلِ پروانہ

تو نارِ زیست سے پھر الاماں نہیں کرتے