19/2/2010بروزجمعتہ المبارک
رپورٹ ایم اقبال انجم سے 03017737662

خیرپورٹامیوالی /بہاول پور﴿ ﴾پاکستان مسلم لیگ ﴿ق﴾ نے انتخابی مہم کا اغاز کرتے ہوئے ملک بھر کے دورے کرنے کا پرو گرام تشکیل دے دیا ہے سربراہان ق لیگ چوہدری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی آئندہ چند روز بعدبہاول پور خیرپورٹامیوالی یزمان کا دورہ کرہے ہیں جن کا استقبال ﴿ق﴾ لیگ کے ممبران اسمبلی ایم این اے میاں ریاض حسین پیر زادہ کریں گے ﴿ق﴾ لیگ کے سربراہان خیرپورٹامیوالی پیرزادہ ہائوس شیخ واہن بھی جائینگے اس بات کا انکشاف ﴿ق﴾لیگ کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران کیا ہے حاصل پور میں ﴿ق﴾ لیگ کے کارکنوں سے بھی ملاقات کی جائے گی

خیرپورٹامیوالی/بہاول پور ﴿ ﴾حکومت پنجاب نے بے زمین کسانوں میں ساڑہے بارہ ایکڑ اراضی اور بے مکین افراد میں سات مرلہ پلاٹ تقسیم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دئے ہیں پنجاب حکومت نے جاری کردہ ایک مراسلے کے مطابق صوبہ بھر کے کمشنر وں سے تفصیلی فہرستیں طلب کر لی
ہیں یے اقدمات وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حکم سے کیئے جارہے ہیں پنجاب حکومت کے ایک سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف وعدے کے مطابق صو بہ بھر کے غریب کسانوں میں ساڑہے بارہ ایکڑ اراضی اور بے مکین افراد میں سات مرلہ پلاٹ دینے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں جس کا آغاز بہاول پور چولستان سے کیا جائیگا اور چولستان کی اراضی مقامی افراد میں تقسیم کی جائیگی چولستان میں لینڈ مافیا ئ کے خلاف بھی کاروائی کی جائیگی بہا ول پور میں وکلائ کالونی اور صحافی کالونی بھی تعمیر کی جائینگی حکومت پنجاب اپنے وعدے کے مطابق بہاول پور کو سرسبز شاداب بنانے کا ارادہ رکھتی ہے

خیرپورٹامیوالی/بہاول پور﴿ ﴾دریائ ستلج کا پانی بند ہونے سے بہاول پور ڈویثر کی اراضی بنجر ہونا شروع ہوگئی اور زمین کی تہہ سے پانی نیچے چلا گیا بہاول نگر حاصل پور خیرپورٹامیوالی کا دریائی رقبہ پانی نہ ملنے کے نتیجہ میں بنجر ہو رہا ہے ہزاروں ا یکڑ اراضی بنجر ہونے سے کسان اور زمیندار مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں انتظامیہ اس بارے میں کوئی اقدامات نہ کری ہے نہری پانی ٹیلوں تک نہ پہنچنے سے چولستانی ارضی بھی بنجر ہو رہی ہے اگر حکومت پاکستان نے بھارت سے مطالبات نہ کیئے اور ستلج میں پانی نہ چھوڑا گیا تو بہاول پور کا خطہ جو کہ سابق سٹیٹ ہے اور نوابان کاعلاقہ کہلاتا ہے ہمشہ کیلئے بے رحم حکمرانوں کی بھینٹ چڑہ جائیگاجوکہ لمحہئ فکرئہ ہے ایک رپورٹ کے مطابق بہاول پور کے ساتھ ہر آنے والی حکومت نے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے اگر کوئی وزیر اعظم بنا ہے تو ملتان یا جنوبی پنجاب سے لیاگیا ہے اسی طرح صدر بھی بنا ہے تو ڈی جی خان اور سندہ سے بنایا گیا ہے بہاول پور کو ہر مقام پر نظر انداز کرنا یہاں کی اعوام کیلئے لمحئہ فیکریہ ہے اگر بہاول پور کو کوئی وزارت ملی بھی ہے تو وہ بھی مملکت کی ہوتی ہے جس کے پاس کوئی اختیارات نہ ہوتے ہیں ہر آنے والی حکومت بہاول پور کو سرسبزو شاداب بنانے کے دعوے کرتی ہے مگر آج تک بہاول پور خطہ کو محرومیوں اور پسماندگی سے نہ نکالا جاسکا ہے حالانکہ اس خطہ کی ایک پرانی ریلوے لائن سمہ سٹہ سے امروکہ بہاول نگر تک جاتی ہے جو ریاست بہاول پور کے ادوار میں انڈیا دہلی تک جاتی تھی جو حکومتی بھینٹ چڑہنے پر تقریبا ختم ہورہی ہے اگر یے ریلوے لائن انڈیا سے دوبارہ کھول دی جائے اور تجارتی کام شروع کردیا جائے تو حکومت پاکستان کو کھربوں روپئے کی آمدن ہوسکتی ہے اور بہاول پور سرسبسز شاداب ہوسکتا ہے
 

   

   
 

 





    

 
 


..:.:..